بھارت ماتا کی جئے،
بھارت ماتا کی جئے،
بھارت ماتا کی جئے،
گڈی پاڑ-ویاچیا آنی نوین ورشاچیہ آپلیہ سروانا آتشے منہ پوروک شوبھیچھا!پروگرام میں موجود پرم پوجنیہ سرسنگھ چالک جی ،ڈاکٹر موہن بھاگوت جی ، سوامی گووند گری جی مہاراج ،سوامی اودھیشانند گری جی مہاراج ،مہاراشٹرکے مقبول وزیراعلی دیویندرفڑنویس جی ،مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی نتن گڈکری جی ،داکٹر اویناش چندر اگنی ہوتری جی ،دیگر قابل احترام شخصیات اور موجود سبھی سینئرساتھی ،راشٹریگیہ کے اس مبارک رسم میں آج مجھے یہاں آنے کی خوش نصیبی حاصل ہوئی ہے ۔آج چیترشکل پرتی پدا کا یہ دن انتہائی خاص ہے ۔آج سے نوراتری کا مقدس تہوار شروع ہورہاہے ۔ملک کے الگ الگ حصوں میں آج گڑی -پڑوا،اگادی اور نوریہہ کاتہوار بھی منایاجارہاہے ۔آج بھگوان جھولے لال جی اور گروانگد دیوجی کا اوترن دیوس بھی ہے ۔یہ ہمارے لیے باعث تحریک اور انتہائی قابل احترام ڈاکٹر صاحب کے یوم پیدائش کا موقع بھی ہے ۔اور اسی سال راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے شاندار سفرکے 100سال بھی پورے ہورہے ہیں ۔آج اس موقع پر مجھے اسمرتی مندر جاکر پوجیہ ڈاکٹر صاحب اور پوجیہ گروجی کوخراج عقیدت پیش کرنے کا شرف حاصل ہواہے ۔
ساتھیو،
اس عرصے میں ہم نے اپنے آئین کے 75 سال کاجشن بھی منایاہے ۔ اگلے مہینے آئین کے معمار بابا صاحب امبیڈکر کا یوم پیدائش بھی ہے۔ آج میں نے دیکشا بھومی پر بابا صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ان کا آشیرواد لیا ہے۔ ان عظیم ہستیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، میں نوراتری اور تمام تہواروں کے لیے ہم وطنوں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
آج ناگپور میں سنگھ کی خدمت کی اس مقدس یاترا میں، ہم ایک مقدس سنکلپ کے گواہ بن رہے ہیں ۔ ابھی ابھی ہم نے مادھو نیترالیہ کے کل گیت میں سنا، یہ روحانیت، علم، فخر اور گروتا کا یہ شاندار اسکول ، انسانیت کے لیے وقف یہ خدمت کا مندر ہر ذرے میں ایک مندر ہے۔ مادھو نیترالیہ ایک ایسا ادارہ ہے جو کئی دہائیوں سے پوجیہ گروجی کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے لاکھوں لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں میں روشنی لوٹ آئی ہے، آج اس کے نئے کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اب اس نئے کمپلیکس کے بعد ان خدمات کے کاموں میں مزید تیزی آئے گی۔ اس سے ہزاروں نئے لوگوں کی زندگیوں میں روشنی پھیلے گی اور ان کی زندگیوں سے اندھیرے بھی دور ہوں گے۔ میں اس خدمت کے لیے مادھو نیترالیہ سے وابستہ تمام لوگوں کے کام اور خدمت کے جذبے کی تعریف کرتا ہوں اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔
ساتھیو،
لال قلعہ سے میں نے سب کی کوششوں کی بات کی تھی۔ آج جس طرح سے ملک صحت کے شعبے میں کام کر رہا ہے، مادھو نیترالیہ ان کوششوں کو بڑھا رہا ہے۔ ہماری ترجیح ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کو صحت کی بہتر سہولیات میسر ہوں۔ غریب سے غریب کو بھی ملک میں بہترین علاج ملنا چاہیے، کوئی بھی شہری زندگی جینے کی عزت سے محروم نہیں رہنا چاہیے، ملک کے لیے جان دینے والے بزرگوں کو اپنے علاج کی فکر نہیں ہونی چاہیے، انھیں اس حالت میں زندگی گزارنا نہیں چاہیے اور یہی حکومت کی پالیسی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج آیوشمان بھارت کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کو مفت علاج کی سہولت مل رہی ہے۔ ہزاروں جن اوشدھی مراکز ملک کے غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو سستی ادویات فراہم کر رہے ہیں۔ ان دنوں ملک میں ڈیڑھ ہزار کے قریب ڈائیلاسز سینٹر ہیں جو مفت میں ڈائیلاسز کی خدمات فراہم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہم وطنوں کے ہزاروں کروڑ روپے بچ رہے ہیں اور انہیں صحت کے فوائد مل رہے ہیں۔ پچھلے 10 سالوں میں، گاؤوں میں لاکھوں آیوشمان آروگیہ مندر بنائے گئے ہیں، جہاں لوگ ملک کے بہترین ڈاکٹروں سے ٹیلی میڈیسن سے مشورہ لیتے ہیں، بنیادی علاج اور مزید مدد حاصل کرتے ہیں۔ انہیں اپنی بیماریوں کی جانچ کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر نہیں کرنا پڑتا۔
ساتھیو،
ہم نے نہ صرف میڈیکل کالجوں کی تعداد کو دوگنا کیا ہے بلکہ ہم نے ملک میں آپریشنل ایمس کی تعداد کو بھی تین گنا کر دیا ہے۔ ملک میں میڈیکل کی نشستیں بھی دگنی ہوگئی ہیں۔ کوشش ہے کہ آنے والے وقتوں میں عوام کی خدمت کے لیے زیادہ سے زیادہ اچھے اور بہتر ڈاکٹر دستیاب ہوں۔ ہم نے بڑا دلیرانہ فیصلہ کیا، یہ آزادی کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ تاکہ اس ملک کا ایک غریب بچہ بھی ڈاکٹر بن سکے اور اس کے خواب پورے ہو سکیں، ہم نے طلبہ کو اپنی مادری زبان میں ڈاکٹر بننے کی سہولت فراہم کی ہے۔ جدید طبی سائنس سے متعلق ان کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک اپنے روایتی علم کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔ ہمارے یوگا اور آیوروید کو بھی آج پوری دنیا میں نئی پہچان ملی ہے، ہندوستان کی عزت بڑھ رہی ہے۔
ساتھیو،
کسی بھی قوم کے وجود کا انحصار اس کی ثقافت کے پھیلاؤ، اس قوم کے شعور کی نسل در نسل پھیلنے پر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو سیکڑوں سال کی غلامی ، اتنے حملے ہوئے، ہندوستان کے سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کتنی ظالمانہ کوششیں ہوئیں، لیکن ہندوستان کا شعور کبھی ختم نہیں ہوا، اس کی لوجلتی رہی ۔ یہ کیسے ہوا؟ کیونکہ مشکل ترین وقت میں بھی اس شعور کو زندہ رکھنے کے لیے ہندوستان میں نئی سماجی تحریکیں چلتی رہیں۔ بھکتی تحریک، یہ ایک ایسی مثال ہے جس سے ہم سب واقف ہیں۔ قرون وسطی کے اس مشکل دور میں ہمارے سنتوں نے عقیدت کے نظریات سے ہمارے قومی شعور کو نئی توانائی بخشی۔ گرو نانک دیو، کبیرداس، تلسی داس، سورداس، ہمارے یہاں مہاراشٹر میں سنت توکارام، سنت ایکناتھ، سنت نام دیو، سنت گیانیشور، ایسے بہت سے سنتوں نے اپنے اصل نظریات کے ساتھ ہمارے قومی شعور میں جان ڈالی۔ ان تحریکوں نے تفریق کی بیڑیاں توڑ کر سماج کو متحد کیا۔
اسی طرح سوامی وویکانند جیسے عظیم سنت بھی تھے۔ انہوں نے مایوسی میں ڈوبے ہوئے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اسے اس کی اصل شناخت یاد دلائی، اس میں خود اعتمادی پیدا کی اور ہمارے قومی شعور کو مرنے نہیں دیا۔ غلامی کی آخری دہائیوں میں ڈاکٹر صاحب اور گرو جی جیسی عظیم ہستیوں نے اسے نئی توانائی دینے کا کام کیا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ قومی شعور کے تحفظ اور فروغ کے لیے سو سال پہلے جو سوچ کا بیج بویا گیا تھا، وہ آج ایک عظیم برگد کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔ اصول اور نظریات اس برگد کے درخت کو بلندی دیتے ہیں، لاکھوں رضاکار اس کی شاخیں ہیں، یہ کوئی عام برگد کا درخت نہیں ہے، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہندوستان کی لافانی ثقافت کا جدید اکشے وٹ ہے۔ آج یہ اکشے وٹ ہندوستانی ثقافت، ہماری قوم کے شعور کو مسلسل تقویت دے رہا ہے۔
ساتھیو،
آج جب ہم مادھو نیترالیہ کے نئے کیمپس پر کام شروع کر رہے ہیں، تونظر کی بات ہونا فطری ہے۔ نظر وہی ہے جو ہمیں ہماری زندگی میں سمت دکھاتی ہے۔ اسی لیے ویدوں میں بھی اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے- پشیم شردہ شتمم! یعنی،ہم سو برسوں تک دیکھیں ۔ یہ بینائی آنکھوں کی ہونی چاہیے یعنی ظاہری بصارت کے ساتھ ساتھ اندرونی بصارت بھی ہونی چاہیے۔ جب ہم بصیرت کی بات کرتے ہیں تو ودربھ کے عظیم سنت شری گلاب راؤ مہاراج جی کو یاد کرنا فطری ہے۔ انھیں پرگیہ چکشو کہا جاتا تھا۔ وہ بہت چھوٹی عمر میں اپنی بینائی سے محروم ہوگئے، لیکن پھر بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں۔ اور اب کوئی پوچھ سکتا ہے کہ جب کوئی چیز آنکھوں سے نظر نہیں آتی تو اس کے باوجود کوئی اتنی تحریریں کیسے لکھ سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی آنکھیں بھلے ہی نہیں تھیں ،لیکن نظر تھی۔ یہ نظر سمجھ سے آتی ہے، اور حکمت سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بصارت فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی بہت طاقت دیتی ہے۔ ہمارا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بھی ایک ایسا سنسکار یگیہ ہے، جو اندرونی بصارت اور بیرونی بصارت دونوں کے لیے کام کر رہا ہے۔ ایک بیرونی بصارت کے طور پر ہم مادھو نیترالیہ کو دیکھتے ہیں اور اندرونی بصارت نے سنگھ کو خدمت کا مترادف بنا دیا ہے۔
ساتھیو،
ہمارے یہاں کہاجاتاہے پروپکارائے پھلنتی ورکشہ،پروپکارائے وہنتی ندیہ، پروپکارائے دوہنتی گاوہ،پروپکارارتھ-میدن شریرم۔ ہمارا جسم احسان کرنے کے لیے ہی ہے، صرف خدمت کے لیے ہی ہے ۔ اور جب یہی خدمت ہمارے سنسکاروں کا حصہ بن جاتی ہے، تو یہ خدمت خود ایک سادھنا بن جاتی ہے۔ یہ سادھنا تو ہر ایک سویم سیوک کی زندگی کا سانس ہے۔ یہ سیواسنسکار ، یہ سادھنا، یہ زندگی کا سانس ہر سویم سیوک کو تپسیا کے لیے نسل در نسل تحریک دے رہا ہے۔ یہ سیواسادھنا ہرسویم سیوک کو مسلسل متحرک رکھتی ہے، اسے کبھی تھکنے نہیں دیتی، کبھی رکنے نہیں دیتی۔ قابل احترام گرو جی اکثر کہا کرتے تھے کہ زندگی کا دورانیہ اہم نہیں ہے بلکہ اس کی افادیت اہم ہے۔ ہم دیو سے ملک اور رام سے راشٹرکے جیون منترلیکر چلے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے چلتے ہیں ۔ اور اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کام چاہے کتنا ہی بڑا یا چھوٹا کیوں نہ ہو، کام کا کوئی بھی شعبہ ہو، سرحدی گاؤں، پہاڑی علاقے، جنگلاتی علاقے، سنگھ کے سویم سیوک بے لوث کام کرتے رہتے ہیں۔ کہیں کوئی ونواسی کلیان آشرم کو اپنا مقصد بنا کر کام میں لگا ہوا ہے، کہیں کوئی ایکل ودیالیہ کے ذریعے قبائلی بچوں کو پڑھا رہا ہے، تو کہیں کوئی ثقافتی بیداری کے مشن میں لگا ہوا ہے۔ کہیں کوئی سیوا بھارتی میں شامل ہو کر غریبوں اور محروموں کی خدمت کر رہا ہے۔
حال ہی میں ہم نے پریاگ میں مہا کمبھ میں دیکھا کہ کس طرح سویم سیوکوں نے نیترا کمبھ میں لاکھوں لوگوں کی مدد کی، یعنی جہاں بھی خدمت کا کام ہے، وہاں سویم سیوک ہیں۔ جب بھی کوئی آفت آتی ہے، سیلاب کی تباہی ہو یا زلزلوں کی ہولناکی، سویم سیوک نظم و ضبط کے ساتھ سپاہیوں کی طرح فوراً موقع پر پہنچ جاتے ہیں۔ کوئی اپنے مسائل کو نہیں دیکھتا، کوئی اپنے درد کو نہیں دیکھتا۔ ہم صرف خدمت کے جذبے کے ساتھ کام میں شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے تودلوں میں بسا ہے، سیوا ہے یگیہ کنڈ ،سمدھاسم ہم جلیں ،دھیے مہاساگرمیں سرت روپ ہم ملیں ۔
ساتھیو،
ایک بار ایک انٹرویو میں سب سے زیادہ قابل احترام گروجی سے پوچھا گیا کہ وہ سنگھ کو ہمہ گیر کیوں کہتے ہیں؟ گرو جی کا جواب بہت ہی قابل تحریک تھا۔ انھوں نے سنگھ کا موازنہ روشنی سے کیاتھا، اجالے سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ روشنی ہمہ گیر ہے، یہ تمام کام اکیلے نہیں کر سکتی، لیکن اندھیرے کو دور کر کے دوسروں کو کام کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ گروجی کی یہ تعلیم ہمارے لیے زندگی کا منتر ہے۔ ہمیں روشنی بننا ہے اور اندھیروں کو دور کرنا ہے، رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے اور راستہ بنانا ہے۔ ہم ساری زندگی اسی جذبے کو سنتے رہتے ہیں، ہر کوئی کم و بیش جینے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ میں نہیں تم ، اہم نہیں ویم ، “ادم راشٹریہ، ادم نا مم”۔
ساتھیو،
جب کوششوں کے دوران توجہ ہم پر ہوتی ہے، میں نہیں، جب قوم کا احساس سب سے مقدم ہوتا ہے، جب پالیسیوں اور فیصلوں میں ملک کے عوام کا مفاد سب سے اہم ہوتا ہے، تو اس کا اثر اور روشنی ہر طرف نظر آتی ہے۔ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے یہ سب سے اہم ہے کہ ہم ان زنجیروں کو توڑیں جن میں ملک الجھا ہوا تھا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان کس طرح غلامی کی ذہنیت کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ 70 سال سے غلامی کی نشانیوں سے پیدا ہونے والے احساس کمتری کی جگہ اب قومی تفاخر کے نئے باب لکھے جا رہے ہیں۔ ملک نے ان انگریزی قوانین کو بدل دیا ہے جو ہندوستان کے لوگوں کو نیچا دکھانے کے لیے بنائے گئے تھے۔ غلامی کی سوچ سے بنی تعزیرات کی جگہ اب بھارتیہ نیائے سنہیتا نافذ ہوئی ہے جو۔ اب ہماری جمہوریت کے آنگن میں راج پتھ نہیں ، کرتویہ پتھ ہے۔ ہماری بحریہ کے جھنڈے میں بھی غلامی کی علامت چھپی تھی، اس کی جگہ اب بحریہ کے جھنڈے پر چھترپتی شیواجی مہاراج کا نشان لہرا رہا ہے۔ انڈمان جزائر، جہاں ویر ساورکر نے قوم کے لیے اذیتیں جھیلیں، جہاں نیتا جی سبھاش بابو نے آزادی کا بگل بجایا، ان جزائر کے نام بھی اب آزادی کے ہیروز کی یاد میں رکھے گئے ہیں۔
ساتھیو،
ہمارا وسودھیو کٹمبکم کا منتر آج دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے۔ اور یہ دنیا ہمارے کام میں بھی دیکھ اور محسوس کر رہی ہے۔ جب کووڈ جیسی وبا ہوتی ہے تو ہندوستان دنیا کو ایک خاندان سمجھتا ہے اور ویکسین فراہم کرتا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی قدرتی آفت آتی ہے، ہندوستان دل و جان سے خدمت کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ آپ نے کل ہی دیکھا ہوگا کہ میانمار میں اتنا بڑا زلزلہ آیا ہے۔ آپریشن برہما کے تحت بھارت سب سے پہلے وہاں کے لوگوں کی مدد کے لیے پہنچا۔ جب ترکی میں زلزلہ آیا، جب نیپال میں زلزلہ آیا، جب مالدیپ میں پانی کا بحران آیا تو ہندوستان نے مدد کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ جنگ جیسے حالات میں ہم دوسرے ممالک کے شہریوں کو بھی بحفاظت نکالتے ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ آج جیسے جیسے ہندوستان ترقی کر رہا ہے، وہ پورے گلوبل ساؤتھ کی آواز بھی بن رہا ہے۔ عالمی بھائی چارے کا یہ احساس ہماری اپنی ثقافت کی توسیع ہے۔
ساتھیو،
آج ہندوستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہمارے نوجوان ہیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہندوستان کے نوجوان کتنے اعتماد سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس کی رسک لینے کی صلاحیت پہلے کے مقابلے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ وہ نئی اختراعات کر رہا ہے، اسٹارٹ اپس کی دنیا میں اپنا جھنڈا لہرا رہا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آج کے ہندوستان کا نوجوان اپنی وراثت اور ثقافت پر فخر کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں، ہم نے پریاگ راج مہا کمبھ میں دیکھا کہ آج کی نوجوان نسل لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں مہا کمبھ پہنچی اور اس لازوال روایت سے وابستہ ہو کر فخر سے بھر گئی۔ آج ہندوستان کا نوجوان ملک کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کر رہا ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں نے میک ان انڈیا کو کامیاب بنایا ہے، ہندوستان کز نوجوان لوکل کے لیے ووکل ہواہے ۔ ایک جذبہ پیدا ہو گیا ہے کہ ملک کے لیے جینا ہے، ملک کے لیے کچھ کرنا ہے۔ کھیل کے میدانوں سے خلا کی بلندیوں تک، ہمارے نوجوان، ملک کی تعمیر کے جذبے سے سرشار ہو کر آگے بڑھ رہے ہیں، آگے چلتے ہی جا رہے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو 2047 میں ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کا پرچم تھامے ہوئے ہیں، جب ہم آزادی کے 100 سال منائیں گے، اور مجھے یقین ہے کہ تنظیم، لگن اور خدمت کا یہ سنگم ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف سفر کو توانائی اور سمت فراہم کرتا رہے گا۔ سنگھ کی اتنے سالوں کی محنت رنگ لا رہی ہے، اتنے سالوں سے سنگھ کی تپسیا ترقی یافتہ ہندوستان کا ایک نیا باب لکھ رہی ہے۔
ساتھیو،
جب سنگھ قائم ہوا تو ہندوستان کی حالت مختلف تھی اور حالات بھی مختلف تھے۔ 1925 سے 1947 تک یہ جدوجہد کا دور تھا۔ آزادی کا بڑا مقصد ملک کے سامنے تھا۔ آج، سنگھ کے سفر کے 100 سال بعد، ملک ایک بار پھر ایک اہم مرحلے پر ہے۔ 2025 سے 2047 تک کا اہم دور، اس عرصے میں ایک بار پھر بڑے اہداف ہمارے سامنے ہیں۔ ایک بار قابل احترام گروجی نے ایک خط میں لکھا تھا، میں اپنی عظیم قوم کی بنیاد میں ایک چھوٹا پتھر بننا چاہتا ہوں، ہمیں خدمت کے اپنے عزم کو ہمیشہ روشن رکھنا ہے۔ ہمیں اپنی محنت کو برقرار رکھنا ہے۔ ہمیں ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنا ہے اور جیسا کہ میں نے ایودھیا میں بھگوان شری رام کے مندر کی تعمیر نو کے بارے میں کہا تھا، ہمیں اگلے ہزار سالوں تک ایک مضبوط ہندوستان کی بنیاد بھی رکھنی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پوجیہ ڈاکٹر صاحب، پوجیہ گرو جی جیسی عظیم ہستیوں کی رہنمائی ہمیں مسلسل طاقت بخشے گی۔ ہم ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کو پورا کریں گے۔ ہم اپنی نسلوں کی قربانیوں کوسچ ثابت کریں گے۔ اسی سنکلپ کے ساتھ،آپ سبھی کو ایک بار پھر اس مبارک نئے سال کے لیے بہت بہت نیک خواہشات۔
بہت بہت شکریہ!
****
ش ح۔ ف ا۔ ج
Uno-9201
Speaking at the foundation stone laying ceremony of Madhav Netralaya Premium Centre in Nagpur. https://t.co/tqtHmqfug9
— Narendra Modi (@narendramodi) March 30, 2025
देश के सभी नागरिकों को बेहतर स्वास्थ्य सुविधाएं मिलें, ये हमारी प्राथमिकता है: PM @narendramodi pic.twitter.com/D75trbp404
— PMO India (@PMOIndia) March 30, 2025
कठिन से कठिन दौर में भी भारत में चेतना को जागृत रखने वाले नए-नए सामाजिक आंदोलन होते रहे। pic.twitter.com/q1nYPJe0P2
— PMO India (@PMOIndia) March 30, 2025
राष्ट्रीय स्वयंसेवक संघ भारत की अमर संस्कृति का आधुनिक अक्षय वट है।
— PMO India (@PMOIndia) March 30, 2025
ये अक्षय वट आज भारतीय संस्कृति को...हमारे राष्ट्र की चेतना को निरंतर ऊर्जावान बना रहा है: PM @narendramodi pic.twitter.com/sPhohB1nSu
जब प्रयासों के दौरान मैं नहीं हम का ध्यान होता है...
— PMO India (@PMOIndia) March 30, 2025
जब राष्ट्र प्रथम की भावना सर्वोपरि होती है...
जब नीतियों में, निर्णयों में देश के लोगों का हित ही सबसे बड़ा होता है...
तो सर्वत्र उसका प्रभाव भी नजर आता है: PM @narendramodi pic.twitter.com/Vo10bHfDN8
दुनिया में कहीं भी प्राकृतिक आपदा हो, भारत पूरे मनोयोग से सेवा के लिए खड़ा होता है: PM @narendramodi pic.twitter.com/xfodqIYSMK
— PMO India (@PMOIndia) March 30, 2025
राष्ट्र निर्माण की भावना से ओतप्रोत हमारे युवा आगे बढ़े चले जा रहे हैं... यही युवा 2047 के विकसित भारत के लक्ष्य की ध्वजा थामे हुए हैं: PM @narendramodi pic.twitter.com/yJ0XodCYek
— PMO India (@PMOIndia) March 30, 2025
नागपुर का माधव नेत्रालय लोगों को सस्ता और विश्वस्तरीय नेत्र उपचार देने में पूरे समर्पण भाव से जुटा है, यह मेरे लिए अत्यंत संतोष की बात है। pic.twitter.com/y0YWYgl8VK
— Narendra Modi (@narendramodi) March 30, 2025
देशवासियों को बेहतर स्वास्थ्य सुविधाएं देना हमारी प्राथमिकता है। माधव नेत्रालय इस दिशा में अपना महत्वपूर्ण योगदान दे रहा है। pic.twitter.com/tE8fbOJIso
— Narendra Modi (@narendramodi) March 30, 2025
राष्ट्रीय स्वयंसेवक संघ भारत की अमर संस्कृति का आधुनिक अक्षय वट है। ये अक्षय वट आज भारतीय संस्कृति और हमारी राष्ट्रीय चेतना को निरंतर ऊर्जावान बना रहा है। pic.twitter.com/cZsgNEYiLs
— Narendra Modi (@narendramodi) March 30, 2025
राष्ट्रीय स्वयंसेवक संघ अन्तः दृष्टि और बाह्य दृष्टि, दोनों के लिए काम कर रहा है। बाह्य दृष्टि के रूप में हम माधव नेत्रालय को देखते हैं और अंत: दृष्टि ने संघ को सेवा का पर्याय बना दिया है। pic.twitter.com/9bXDdp6kha
— Narendra Modi (@narendramodi) March 30, 2025
सेवा है यज्ञकुन्ड...
— Narendra Modi (@narendramodi) March 30, 2025
समिधा सम हम जलें
ध्येय महासागर में...
सरित रूप हम मिलें। pic.twitter.com/VrXTvzpnIt
राष्ट्र प्रथम की भावना सर्वोपरि होने के साथ जब नीतियों और निर्णयों में देशवासियों का हित सबसे बड़ा होता है, तो सर्वत्र उसका प्रभाव भी नजर आता है। pic.twitter.com/MjyQ3gvPhM
— Narendra Modi (@narendramodi) March 30, 2025